آرٹیکلز پاکستان تازہ ترین

اسٹیبلشمنٹ کی حمایت غائب، عمران خان کے چیلنجز بڑھ گئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) علیم خان گروپ کے حیران کُن انداز سے سامنے آنے کے وقت اور اس گروپ کی جانب سے پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ ہاتھ ملا لینا واقعی پریشان کن ہے وہ بھی اس وقت جب اپوزیشن والے وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کیلئے قومی اسمبلی کا سیشن بلانے کو مکمل تیار بیٹھے ہیں۔ روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی خبر کے مطابق پیر کے واقعے سے حکمران جماعت کو زبردست دھچکا لگا ہے کیونکہ پارٹی پہلے ہی اپنی جماعت کے ارکان قومی اسمبلی اور اتحادیوں کے ووٹ محفوظ کرنے میں مصروف تھی۔

اب تک جہانگیر ترین گروپ کو رام کرنے یا پھر ق لیگ سے وزیراعظم کی حمایت کا اعلان کرانے کی تمام تر کوششیں ناکام ثابت رہی ہیں۔ اس پر ایک اور مصیبت یہ کہ پی ٹی آئی کے علیم خان اور سردار یار محمد رند اچانک سرگرم ہوگئے ہیں اور ایسے لوگوں کے ساتھ میل جول بڑھا رہے ہیں جو عمران خان کو نکال باہر کرنے پر تُلے ہیں۔ جہانگیر ترین کی طرح علیم خان اور یار محمد رند کا بھی پی ٹی آئی کے کچھ ارکان پر اپنا اثر رسوخ ہے۔ واضح نہیں ہو رہا کہ عمران خان مخالف تمام قوتیں قریب کیسے آ رہی ہیں۔ تاہم، یہ بات قابل غور ہے کہ اِس مرتبہ تمام تر

سیاسی سرگرمیوں میں اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ کہیں بھی نظر نہیں آ رہا۔ ماضی کے برعکس، کچھ سیاسی گروپس کو اسٹیبلشمنٹ سے کوئی سگنل نہیں مل رہا اور اس طرح یہ جماعتیں غیر فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں۔ پی ٹی آئی کے اتحادی ق لیگ اور ایم کیو ایم والے یہاں ہیں اور نہ وہاں۔ ترین گروپ کے ایک با اثر ذریعے نے بتایا کہ گروپ کو بھی کہیں سے کوئی سگنل نہیں مل رہا۔ کافی عرصہ بعد، نون لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف والے کھل کر اعتراف کر رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ بظاہر نیوٹرل نظر آ رہی ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کی حمایت نہ ہونے پر موجودہ سیاسی صورتحال وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کیلئے ایک چیلنج ہے۔ لاہور میں چوہدریوں کے ساتھ ملاقات میں حمایت نہ ملنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے مبینہ طور پر سینیٹر علی ظفر کو چوہدریوں سے ملاقات کرنے کی ذمہ داری دی تاکہ انہیں قائل کیا جا سکے کہ وہ وزیراعظم کیلئے اپنی حمایت کا اعلان کریں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ علی ظفر نے چوہدریوں سے ملاقات کی لیکن ق لیگ ’’دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

علی ظفر اور ان کے والد ایس ایم ظفر کی چوہدریوں کیساتھ پرانے تعلقات ہیں۔ پیر کو پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن کے اقدام اور اسے ناکام بنانے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، علیم خان گروپ کے اچانک ابھر کر سامنے آنے پر حیران وزیراعظم نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کو ٹاسک دیا ہے کہ وہ جا کر علیم خان سے ملاقات کریں اور انہیں قائل کریں کہ وزیراعظم کے ساتھ مل بیٹھ کر اختلافات دور کریں۔

پی ٹی آئی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اجلاس میں عمران خان پر اعتماد تھے۔ کور کمیٹی نے اس بات پر غور کیا کہ تحریک پیش کیے جانے کی صورت میں یہ ذمہ داری اپوزیشن پر عائد ہوگی کہ وہ قومی اسمبلی میں 172؍ ارکان پیش کریں جو کور کمیٹی کی رائے میں مشکل کام ہوگا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن والوں کے پاس حکمران جماعت کے کچھ ارکان قومی اسمبلی کی حمایت ہے تو پی ٹی آئی کو بھی اپوزیشن کے کچھ ارکان اسمبلی نے حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اسی دوران اپوزیشن جماعتیں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کو اپنی طرف مائل کرنے میں مصروف ہیں۔ نون لیگ نے پنجاب سے پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی پر کام کیا ہے اور پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس حکمران جماعت کے 10؍ ارکان کی حمایت موجود ہے۔ پیپلز پارٹی کراچی اور بلوچستان سے حکمران جماعت کے ارکان قومی اسمبلی کو منانے میں مصروف ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے پی سے پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کو منا رہے ہیں۔

اپوزیشن ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس تحریک لانے کیلئے ارکان کی تعداد پہلے سے زیادہ اطمینان بخش ہے۔ ذرائع کا اشارہ ہے کہ اپوزیشن جلد قومی اسمبلی میں ریکوزیشن پیش کرے گی تاکہ عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائی جا سکے۔ جہانگیر ترین گروپ کے زیادہ تر ارکان پہلے ہی نون لیگ والوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اب تک اپوزیشن والے زیادہ تر اسی گروپ پر انحصار کر رہے ہیں اور اس گروپ کے کچھ ارکان نے کھل کر پہلے ہی عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ق لیگ اور ایم کیو ایم کے حوالے سے دیکھیں تو ذرائع کہتے ہیں کہ ایک بار قومی اسمبلی کا سیشن بلا لیا جائے اور تحریک پیش ہو جائے تو اس کے بعد ہی یہ جماعتیں اپنے پتے دکھائیں گی۔

اپنا کمنٹ کریں