آرٹیکلز پاکستان تازہ ترین

اقرار الحسن پر آئی بی ڈائریکٹر کا تشدد نازک اعضا پر بجلی کے جھٹکے لگاتے رہے

کراچی(این این آئی)انٹیلی جنس بیورو کے افسر کے متعلق پروگرام ریکارڈ کرنے پر نجی ٹی وی اینکر اقرار الحسن کو بہیمانہ تشدد کا نشانا بنایا گیا، وزیراعظم ہائوس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی بی کے پانچ افسران کو معطل کردیا،سیاسی رہنمائوں کے ساتھ ساتھ عوام کی جانب سے بھی تشدد کی مذمت کی گئی جبکہ حملہ کرنے والوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیاگیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق

کراچی کے علاقے اورنگی ٹائون میں سویلین انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکاروں نے آئی بی افسر کے خلاف پروگرام کرنے پر نجی چینل کے اینکر اور ان کی ٹیم پر تشدد کر ڈالا۔ذرائع کے مطابق سر عام پروگرام کے میزبان کو تشویشناک حالت میں فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ڈاکٹروں کے مطابق ان کا بنیادی علاج مکمل کر لیا گیا ہے اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ بھی سامنے آگئی، جس میں بتایا گیا ہے کہ اقرار الحسن کے منہ پرمسلسل تھپڑ مارے گئے اور سر پر بھی شدید چوٹ آئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقرار الحسن کو رات10بجکر57منٹ پرعباسی اسپتال ایمرجنسی لایاگیا، اسپتال میں ڈاکٹرز کی ٹیم کی جانب سے مکمل معائنہ کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ رپورٹ کے پہلے حصے میں اقرار الحسن پر تشدد کا بتایا گیا، اقرار الحسن کے منہ پر مسلسل تھپڑ مارے گئے اور ان کو دیوار پر دے مارا۔میڈیکل رپورٹ کے دوسرے حصے میں جسمانی چوٹوں کا ذکر کیا گیا ، جس میں بتایا گیا ہے کہ اقرار الحسن کے سر پر شدید چوٹ آئی، ان کے زخموں پر ٹانکے

لگائے گئے، ان کے سر پر چوٹ بٹ لگنے کی وجہ سے آئی۔میڈیکل رپورٹ کے تیسرے حصے میں فوری طبی امداد کا ذکر کیا گیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی رپورٹ کے بعد میڈیکولیگل افسر کو ریفر کیا گیا، میڈیکولیگل رپورٹ آنے کے بعد مزید صورتحال واضح ہوگی۔ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹر آئی بی سید محی الدین رضوان کے کہنے پر اقرار الحسن اور ان کی ٹیم کو برہنہکر کے ان کو مارا پیٹا گیا اور بجلی کے جھٹکے بھی لگائے گئے ہیں۔بعد ازاں وزیراعظم ہائوس نے معاملے کا فوری نوٹس لیا۔ جس کے بعد وفاقی حکومت نے آئی بی کے پانچ افسران کو معطل کردیا۔ڈائریکٹر آئی بی سید رضوان سمیت پانچ افسران کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ افسران میں محبوب علی، انعام علی، رجب علی اور خاور شامل ہیں۔اس حوالے سے اقرار الحسن نے بتایا کہ ہم نے

ہرقسم کا ظلم برداشت کیا، ہماری آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر کئی گھنٹے حبس بیجا میں رکھا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ہم آئی بی افسران کی کرپشن کو بے نقاب کررہے تھے، جس کی پاداش میں ہمیں زخمی کیا گیا ہے، سر پر چوٹ لگی جس کی وجہ سے 7،8ٹانکے لگے ہیں۔دوسری جانب سیاسی رہنمائوں کے ساتھ ساتھ عوام نے بھی تشدد کی مذمت کی ہے اور سر عام ٹیم پر حملہ کرنے والوں کی فوریگرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔سندھ کے صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہاکہ اس وفاقی ادارے کے 5 افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔آئی بی کے دفتری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اس کے ڈائریکٹر سید محی الدین رضوان سمیت 5اہلکاروں کو سرعام ٹیم کے ساتھ بدسلوکی اور صورتحال کو خراب کرنے” پر معطل کر دیا گیا ہے۔معروف ٹی وی اینکر اور رمضان ٹرانسمیشن کے میزبان وسیم بادامی نے اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر اس تشدد کیخلاف ٹوئٹ کیا ہے۔اداکارہ مشی خان نے بھی اس تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے اور اقرار الحسن کے لئے دعائیں بھیجی ہیں۔ایک ٹوئٹر صارف نے اس تشددپر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اتھاریٹیز کو ان کیخلاف آواز اٹھانی چاہیئے۔ایک اور ٹوئٹر صارف نے اپنے ٹوئٹ میں کہا :”ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میں اس شخص کیلئے سب کی حمایت چاہتا ہوں۔”

اپنا کمنٹ کریں