پاکستان تازہ ترین

اپوزیشن نے وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کرادی

لاہور ٗاسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ٗ این این آئی)اپوزیشن نے پنجاب میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد متحدہ اپوزیشن کی طرف سے جمع کرائی گئی ہے جس میں وزیراعلیٰ کی کاردگی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہےکہ عثمان بزدار کے خلاف قرارداد آج پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کے بعد اب اسپیکر 14 دن میں اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے پابند ہیں۔واضح رہےکہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کرائی جو اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کی جاچکی ہے۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی کا

اجلاس دوروزہ وقفے کے بعد آج پیر کو پارلیمنٹ ہائوس میں شام چار بجے شروع ہوگا جس میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا عمل شروع ہوگا ۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس دوروزہ وقفے کے بعد (آج)پیر کو دوبارہ پارلیمنٹ ہائوس میں شام چار بجے شرورع ہوگا ۔اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کرینگے ۔اجلاس میں وزیر اعظم کیے خلاف تحریک عدم اعتماد کا عمل شروع ہوگا ۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابقآئین کے آرٹیکل 95 ون کیساتھ قومی اسمبلی کے 2007 کے رولز اینڈ پروسیجر 37 کے تحت وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی جائے گی۔تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت پر ارکان وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد پیش کریں گے جس میں کہا گیا ہے کہ ایوان کی رائے میں وزیر اعظم عمران خان ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں۔

قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی تحریک میں مطالبہ کیا جائے گاکہ وزیر اعظم ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں لہذا انہیں عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔ایجنڈے میں عوامی مفاد کے معاملات پر اراکین اسمبلی توجہ دلا نوٹس پیش کریں گے اور متعلقہ وزرا اس حوالے سے موقف پیش کریں گے۔خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کا اجلاس 25 مارچ2022 بروز جمعہ دن 11 بجے پارلیمنٹ ہاس میں طلب کیا تھااجلاس اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی ریکوزیشن پر طلب کیا گیا جو موجودہ قومی اسمبلی کا 41 واں اجلاس ہے۔

واضح رہے کہ آرٹیکل 54 کے مطابق کم از کم 25 فیصد اراکین کے دستخط کے ساتھ قومی اسمبلی کے اجلاس کی ریکوزیشن جمع کروائی جائے تو اسپیکر کے پاس اجلاس بلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ 14 دن کا وقت ہوتا ہے، اس لیے اسپیکر کو 22 مارچ تک ایوان زیریں کا اجلاس طلب کرنا تھا تاہم قومی اسمبلی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں وضاحت کی گئی تھی کہ 21 جنوری کو قومی اسمبلی نے 22 اور 23 مارچ کو او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے 48 ویں اجلاس کے لیے اپنے چیمبر کے خصوصی استعمال کی اجازت دینے کے لیے ایک تحریک منظور کی تھی۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اپنے چیمبر کی عدم دستیابی کی وجہ سے سینیٹ سیکرٹریٹ کو ایوان زیریں کے اجلاس کے لیے اپنا چیمبر فراہم کرنے کو کہا تھا لیکن یہ بھی تزئین و آرائش کے کام کی وجہ سے دستیاب نہیں ہو سکا۔یاد رہے کہ مشترکہ اپوزیشن نے 8 مارچ کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے ساتھ ہی قومی اسمبلی کے اجلاس کی ریکوزیشن جمع کرائی تھی۔

آئینی ضابطہ کار کے مطابق اسپیکر ریکوزیشن جمع کرانے پر 14 روز کے اندر اجلاس طلب کرنے کا پابند ہوتا ہے تاہم اسپیکر کی جانب سے 11 روز گزر جانے کے باوجود کوئی اعلان نہ سامنے آنے پر اپوزیشن نے دھمکی دی تھی کہ اگر پیر تک تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی میں کارروائی شروع نہیں کی گئی تو ایوان میں دھرنا دیں گے۔

اپنا کمنٹ کریں