آرٹیکلز پاکستان تازہ ترین

تحریک انصاف ڈیزل کا دس سال کا ذخیرہ چھوڑ کر گئی ، بڑا دعویٰ سامنے آ گیا

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماء اور سابق وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے کیسز کے فیصلوں سے عدلیہ کی ریٹنگ 130 سے نیچے جائیگی، لوڈشیڈنگ حکومت کے ایل این جی کے دو بڑے سودے ڈیفالٹ کرنے کے باعث ہو رہی ہے، تحریک انصاف ڈیزل کا دس سال کا ذخیرہ چھوڑ کر گئی

،حکومت تناؤ کا شکار ہے ، پوری طاقت حمزہ شہباز کو وزیراعلی بنانے پر ہے،پاکستان کو انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے، ہمیں آگے بڑھنا ہوگا،فوری انتخابات ہی پاکستان کے موجودہ بحران کا حل ہے،مریم اورنگزیب کونسلر کا الیکشن نہیں لڑ سکتیں ان کو پالیسی سازی کو کچھ پتہ نہیں ،پیپلزپارٹی کو مبارک ہوں،

ذوالفقار بھٹو کا نواسہ جنرل ضیاالحق کے منجھلے بیٹے کا وزیرخارجہ بن گیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماء اور سابق وزیراطلاعات فواد چوہدری نے وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے کیسز کی سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر عدلیہ کی ریٹنگ دنیا میں 130 سے اوپر نہیں نیچے جائے گی۔اسلام آباد میں زلفی بخاری، عثمان ڈار اور پی ٹی آئی کے

دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت کا اب تک کا سب سے بڑا پالیسی فیصلہ یہ تھا کہ تقریباً پورا پاکستان مفت عمرہ کرنے چلا جائے گا لیکن عوامی دباؤ کی وجہ سے یوٹرن لینا پڑا۔انہوں نے کہا کہ پہلے کہا گیا کہ ایسا کچھ نہیں ہے لیکن پھر پی آئی اے کولکھا گیا خط سامنے آگیا اور پتہ چل گیا ہے کہ 60 ہزار ڈالر روزانہ پی آئی اے کو حکومت نے ادائیگی کرنی تھی۔انہوں نے کہا کہ

امیر حیدر ہوتی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کا بڑا اچھا فیصلہ تھا کہ عبادت اپنے پیسوں سے کریں گے، اس کے بعد ان پر دباؤ پڑا اور فیصلہ واپس لیا ۔لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ اس لیے ہو رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے ایل این جی کے جو دو سب سے بڑے سودے کیے تھے وہ ڈیفالٹ کرگئے اور پاکستان میں ایل این جی نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد گیس کا مقامی نظام پاور پلانٹ کی طرف منتقل کرنا تھا لیکن آپ نے نہیں کیا، اس کے بعد درآمد کوئلے کی

ادائیگیاں کرنی تھی، ہم کوئلے کے پلانٹس کو اضافی 50 ارب روپے ادائیگی کرنے جا رہے تھے لیکن انہوں نے وہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اب فرنس آئل کا ذخیرہ ختم ہورہا ہے، کوئلے کے پلانٹ ایک تہائی پر چل رہے ہیں اور ہمارے سروں پر لوڈ شیڈنگ کا بہت بڑا بحران مسلط ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ڈیزل کا 10 سال کا سب سے بڑا ذخیرہ بنایا تھا

اور وہ چھوڑ کر گئے تھے جبکہ ان کے وزرا کے متضاد بیانات کی وجہ سے ذخیرہ اندوزی ہو رہی ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ ملک میں امن و امان نیچے جا رہا ہے اور حکومت پوری طور پر تناؤ کا شکار ہے اور پوری طاقت اس بات پر ہے کہ حمزہ شہباز کسی طرح وزیراعلیٰ بن جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ شہباز شریف کو وزیراعظم یا حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ بنانا نہیں ہے اور ہمیں فوری طور پر انتخابات کی طرف جانا چاہیے اور یہی پاکستان کے موجودہ بحران کا حل ہے۔انہوں نے کہا کہ ان سے آپ مستقل فیصلوں کی توقع نہیں کرسکتے ہیں،

انہوں نے اب تک دو دفعہ بجلی کی قیمت بڑھا دی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج عدالت میں دو مقدمات تھے، کل جج صاحب ہمت کریں، اگرچہ لوگوں کو شک ہے، مجھے امید ہے کہ آخر عدلیہ نے اپنا کردار ادا کرنا ہے، ایک کیس میں عدالت نے تاریخ دی کہ وزیراعظم کی منی لانڈرنگ کا کیس اگلی تاریخ میں سنیں گے جبکہ حمزہ شہباز کے کیس میں کہا گیا کہ حلف اٹھانا ضروری ہے۔عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ظاہر اس سے آپ کو 130 ریٹنگ ملے گی یا اس سے نیچے ہوگی آپ اوپر نہیں آسکتے

۔انہوں نے کہا کہ اس وقت عدلیہ اور تمام پاکستان میں یہ احساس ہے کہ پاکستان اس طرح آگے نہیں چل سکتا ہے، پاکستان کو انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے، اس کے لیے ہمیں آگے بڑھنا ہے۔فواد چوہدری نے مریم اورنگزیب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کونسلر کا الیکشن بھی نہیں لڑ سکتیں اور ان کو پالیسی سازی کو کچھ پتہ ہی نہیں ہے، اس طرح پاکستان کی سیاست کو ان خواتین کے حوالے نہیں کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں کہ ذوالفقار بھٹو کا نواسہ جنرل ضیاالحق کے منجھلے بیٹے کا وزیرخارجہ بن گیا ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ ضیاالحق 11 برسوں میں پوری کوشش کے باوجود پیپلزپارٹی کو ختم اور تباہ و برباد نہ کرسکے وہ آج آصف زرداری نے کروا دیا ہے اور پیپلزپارٹی اب اصل میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئی ہے، وہ کس شکل اور کس منہ سے کہیں گے کہ ہم علیحدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ان سب کو ایک انتخابی نشان دے دیں اور لوٹا دے دیں

تو مناسب ہوگا، جو ان کی سیاست کے ساتھ جائے گا تو ان سب کو فوری طور پر لوٹے کا انتخابی نشان الاٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ 9 تاریخ کو آرٹیکل 63 اے کا کیس مقرر کیا ہے اور مجھے امید ہے سپریم کورٹ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے گی اور پاکستان کی ساری سیاست اس کیس کے گرد آگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے

اندر انتخابی اصلاحات اور انتخابات دو معاملات ہیں، جن کے طرف ہمیں بڑھنے کی ضرورت ہے، اسی طرح سمندر پار پاکستانیوں کا ووٹ بھی بہت ضروری ہے۔

اپنا کمنٹ کریں