آرٹیکلز

جہنم سے آزادی کا ٹکٹ، صرف 7 مرتبہ یہ دعا پڑھیں

جب آپ فجرکی نماز سے فارغ ہوں تو کسی سے بات کرنے سے قبل سات بار” اللھم اجرنی من النار” اے اللہ مجھے آگ سے بچا کہیں تواگر آپ کواس دن موت آجاۓ تواللہ تعالی تمہارے لیے آگ سے بچاؤ لکھ دے گا ، اوراگرآپ مغرب کی نماز پڑھ کرکسی سے بات کرنے سے قبل سات بار اللھم انی اسئلک الجنۃ اے اللہ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں ، اورسات بااللھم اجرنی من النار اے اللہ مجھے آگ سے بچا تواگرآپ اس رات فوت ہوجائيں تواللہ تعالی آگ سے بچاؤ لکھ دے گا )

تواس حدیث میں دوچيزیں ہیں :
1- یہ کلمات عشاء کے بعد نہیں کہیں جائيں گے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گيا ہے ۔
2 – یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت نہيں ، دیکھیں السلسلۃ الضعیفۃ للالبانی رحمہ اللہ حدیث نمبر ( 1624 ) ۔
تواس بنا پرنہ تویہ دعا نماز فجر اورنہ ہی نماز مغرب کے بعدکہنی واجب اور نہ ہی مستحب ہے ۔
3 – انس رضي اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے تین باراللہ تعالی سے جنت کا سوال کیا توجنت یہ کہتی ہے اے اللہ اسے جنت میں داخل کردے ،

اورجس نے تین بارجھنم کی آگ سے پناہ طلب کی توآگ کہتی ہے اے اللہ اسے آگ سے پناہ دے دے ۔
سنن ترمذي حدیث نمبر ( 2572 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 4340 ) اوریہ حدیث صحیح ہے اسے علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع ( 6275 ) میں صحیح کہا ہے ۔
لیکن یہ کسی وقت اورنماز کے ساتھ مقید نہیں بلکہ کسی بھی وقت کہا جاسکتا ہے ، تومومن کے لیے یہ مستحب ہے کہ وہ اللہ تعالی سے جنت کا سوال اورجھنم سے بچاؤ طلب کرتا رہے اور اس میں کسی بھی وقت کی تعیین نہ کرے نہ تونمازاور نہ ہی اوقات میں بلکہ کسی بھی وقت مانگ سکتا ہے ۔
واللہ تعالی اعلم .

نیکیوں کا موسم بہار رمضان المبارک اپنے جوبن پر آیا چاہتا ہے۔ اس ماہ مبارک کا پہلا حصہ رحمت دوسرا مغفرت کے بعد اب آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزادی کا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللٰہﷺ کا حال یہ تھا کہ رمضان کا آخری عشرہ آتا تو راتوں کو زیادہ سے زیادہ جاگ کر عبادت کرتے اور اپنی بیویوں کو جگاتے (کہ وہ بھی زیادہ سے زیادہ جگ کر عبادت کریں ) اور اللہ کی عبادت کے لیے کمر کس لیتے (یعنی پورے جوش و یکسوئی کے ساتھ عبادت میں لگ جاتے ) ۔ اس کی وجہ اس عشرے میں رکھی گئی وہ بیش قیمت رات ”شب قدر“ ہے۔ جس میں ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر خیر و برکت کے خزانے لٹائے جاتے ہیں۔ اس رات میں رب کریم نے اپنی سب سے بڑی رحمت اپنے بندوں کے لیے نازل فرمائی۔ ”ہم نے اس کتاب مبین کو برکت والی رات میں اتارا“ (الدخان، 3 : 44 )

فرمایا گیا : ”ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا۔ اور تم کیا جانو، شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔“ ( سورۃ القدر)
رات کو عبادت کے لیے کھڑے ہونا، تلاوت قرآن اور استغفار گناہوں سے بچنے کا نہایت اثر انگیز عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اسے متقین (گناہوں سے بچنے والوں ) کی نشانی بتایا ہے کی : ”متقین وہ ہیں جو رات کو کم سوتے ہیں، اور سحر کے وقت استغفار کرتے ہیں“ ۔ (الذاریات، 18 : 51 )رات کے اس حصے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کہ اللہ تعالیٰ دنیا والوں کے بہت قریب آتا ہے اور پکارتا ہے، کون جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے دوں۔ کون ہے جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہے کہ میں اس کو معاف کر دوں“ (بخاری، مسلم: ابو ہریرہ رض)

ایک اور جگہ دل کو جھنجھوڑ دینے والے الفاظ ہیں کہ: ”رات کی اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ اپنا ہاتھ پھیلا دیتا ہے اور کہتا ہے، کون ہے جو ایسی ذات کو قرض دے جو فقیر ہے نا ظالم، اور صبح تک یہی کہتا رہتا ہے“ (مسلم ؛ ابو ہریرہ رض) ”اس رات قیام کرنے والوں کو سارے گناہوں کی مغفرت کی خوشخبری دی گئی ہے، دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور دین و دنیا کی جو بھلائی مانگی جائے عطا کی جاتی ہے“ ۔ (مسلم : جابر رض)
”اس رات کے خیر سے محروم ہو جانے والوں کے لیے اس سے بڑی بدقسمتی اور کوئی نہیں“ ۔ (ابن ماجہ: انس بن مالک رض)

یہ رات آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک ہے۔ اس کا علم ہم سے پوشیدہ رکھا گیا ہے کہ اس کی تلاش کی مسلسل کوشش میں دیوانہ وار شوق عبادت اللہ کو محبوب ہے۔ اس شب کے لیے رسول اللٰہﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے امت کو ایک مختصر و جامع دعا سکھائی :
”میرے اللٰہ، آپ بہت معاف کرنے والے ہیں، معاف کرنے کو پسند کرتے ہیں پس مجھے معاف کر دیجیے“ ۔ (احمد، ترمذی)
اسی عشرے میں فرض کفایہ کے طور پر اعتکاف کا بھی حکم ہے۔ اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ کچھ مدت کے لیے دنیا کے کاموں سے کٹ کر صرف اللہ کی یاد میں مصروف رہیں۔ اس حاصل یہ ہے کہ زندگی میں اللہ کی بندگی ہر چیز پر مقدم ہو۔

نماز کے بعد سب سے بڑی عبادت اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ یہ تقویٰ کی بنیادی شرط اور متقین کی لازمی صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا:
”اے آدم کے بیٹے، میں بیمار ہوا تو تو نے میری عیادت نہ کی۔“
انسان کہے گا، ”اے میرے رب میں تیری کس طرح عیادت کرتا، جب کہ تو رب العالمین ہے۔“
اللہ تعالیٰ فرمائے گا، ”کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تو، تونے اس کی عیادت نہ کی۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر، تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے کھانا نہ دیا۔“ ۔ انسان کہے گا ”اے میرے رب میں تجھے کیسے کھانا دیتا جب کہ تو رب العالمین ہے۔“ اللہ فرمائے گا ”کیا تجھے علم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تو تو نے اسے نہ دیا۔

اپنا کمنٹ کریں