آرٹیکلز پاکستان تازہ ترین

حکومت گرانے کیلئے اچانک وفاداریاں تبدیل ہونا معنی خیز ہے، جسٹس (ر) وجیہ الدین

کراچی (این این آئی)عام لوگ اتحاد کے رہنما جسٹس (ر) وجیہ الدین نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں 3 اپریل کو جو ہوا وہ اپنی جگہ، اس وقت معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ لہٰذا تمام متعلقین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے، خصوصاً جبکہ حزب اختلاف کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ نیشنل سیکورٹی کونسل کی روداد عدالت میں طلب کی جائے

اور نہ صرف یہ بلکہ ملٹری لیڈر شپ سے بھی چیمبر میں زیر سماعت مسئلے پر رائے طلب ہو۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ پہلے کہہ چکی ہے کہ وہ صرف اور صرف آئین پاکستان تک محدود رہے گی۔ ویسے بھی پارلیمان کی اندرونی کارروائیوں کے بارے میں عدالتی اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس ضمن میں ذرا سی بھی بے احتیاطی آئین کے قائم کردہ توازن کو بری طرح مجروح کرسکتی ہے۔

دوسری شکل میں لامحدود مسائل نظر آتے ہیں۔ ایک طرف تو امریکہ کے متعلقہ اسسٹنٹ سیکریٹری مسٹر لو نے پاکستان کے سابقہ سفیر سے اپنی گفتگو کے بارے میں کوئی حتمی بات کرنے سے گریز کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح کی کوئی بات ضرور تھی۔ دوسری طرف روش سے ہٹتے ہوئے روس کے دفتر خارجہ نے واضح طور پر کہا کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت ہوئی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ

حزب اختلاف نے نیشنل سیکورٹی کونسل میں شرکت نہیں کی، جہاں فیصلہ ہوا کہ متعلقہ خارجی مداخلت قابل قبول نہ تھی۔ ساتھ ہی ساتھ نہ صرف حکومت کی حلیف پارٹی بلکہ 20 سے زائد اسمبلی کے ممبران اپوزیشن کی نشستوں پر 3 اپریل کے اجلاس میں براجمان نظر آئے، جو عام طور پر صرف پیسہ یا اثر و رسوخ نہیں کرا سکتا۔ یاد رہے کہ اتنی کثیر تعداد میں وفاداریاں بدلنا ووٹرز کے اعتماد سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے اور نہ آئین کے مطابق ہے، سیاسی وابستگی کی تو بات ہی کیا۔

حزب اختلاف کی قرارداد کے پس منظر میں جو ٹائمنگ رہی ہے وہ بھی چونکا دینے والی ضرور ہے۔ ان سب باتوں پر طرہ یہ کہ ابھی سماعت چل ہی رہی ہے کہ کچھ لوگوں نے عدالت کے کردار پر بھی غیر ذمہ دارانہ تنقید سے گریز نہیں کیا، انہیں مکمل عدالت کا فیصلہ چاہئے،

جو جلد از جلد ہو اور یہ بھی سرٹیفیکٹ دیا جائے کہ ان کی حب الوطنی میں کوئی شبہ نہیں۔ یہ سب ایک بہت ہی پیچیدہ معاملے کو مزید پیچیدہ بنانے کی باتیں ہیں۔ جسٹس (ر) وجیہ نے کہا کہ ان کی ناقص رائے میں بات صرف اتنی سی ہے کہ

اگر وہ عمل جو اسپیکر کر سکتا تھا اور جو خود اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کے نتیجے میں، جو خود 3 اپریل کو پیش کی گئی، وہی اسپیکر کا عمل اگر ڈپٹی اسپیکر نے کرلیا تو کیا یہ صرف ضابطہ کی کارروائی ہے

یا غیر قانونی اور غیر آئینی۔ یہ بھی ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر دو فریقین عوام کی طرف جانے کی باتیں کرتے رہے ہیں اور موجودہ صورت حال میں عوام کی طرف ہی رجوع کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنے آخری زمانے میں

ضیاء الحق نے بظاہر غیر آئینی طور پر نیشنل اسمبلی تحلیل کردی تھی مگر سپریم کورٹ نے متوقع الیکشن کو روکنے سے انکار کیا اور اسمبلی کی تحلیل میں دخل اندازی نامناسب قرار دی۔

اپنا کمنٹ کریں