آرٹیکلز دلچسپ

سارادن دولت ہی پکڑتے رہوگے، 100 فیصد گارنٹی وظیفہ

آج ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، جمعرات کا بہترین وظیفہ لے کر۔ آپ کی وہ حاجت جو ابھی تک کسی نہ کسی وجہ سے پوری نہیں ہوسکی۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس عمل کی برکت سے اگلی جمعرات سے پہلے پہلے میرے اللہ کے حکم سے آپ کی ہر حاجت پوری ہوجائے گی۔ وہ آپ کی جائزحاجتیں جو ابھی تک پوری نہ ہوسکیں ۔کسی نہ کسی وجہ سے رہ گئی ہیں اللہ کے حکم سے پوری ہو جائیگی۔ یہ وظیفہ بہت ہی خاص ہے۔

اس میں وقت کی کوئی قید نہیں ہے۔ آپ اس کو جب چاہے اپنی مرضی سے اور آسانی سے پورا کر سکتے ہیں۔ نہ ہی اس چیز کی قید ہے کہ آپ نے اس کو فلاں نماز کے بعد ہی کرنا ہے۔آپ کسی بھی نمازکے بعد یہ وظیفہ مکمل کر سکتے ہیں با وضو یا بے وضو ،کسی بھی حالت میں آپ یہ وظیفہ کر سکتے ہیں۔اس میں کسی قسم کی کوئی قید اور بندش نہیں ہے- یہاں تک کہ عورتیں اپنے خاص دنوں میں بھی اس کو کر سکتی ہیں۔ جائز حاجات کسی بھی طرح کی ہو سکتی ہیں وہ کاروبار کے متعلق بھی ہو سکتی ہیں -اولاد کے متعلق بھی ہو سکتی ہیں- گھر میں خوشحالی کے متعلق بھی ہو سکتی ہیںاور میاں بیوی کے درمیان باہمی محبت کے متعلق بھی ہو سکتی ہیں

اگر آپ کسی پریشانی سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی آپ کی حاجت ہی تصور ہوتی ہے۔کیونکہ آپ خواہش کرتے ہیں کہ میری فلاں مشکل یا پریشانی دور ہو جاے تو اس سے متعلق یہ نہیں ہے کہ صرف آپ کو کوئی چیز چاہیے تو وہی حاجت ہے . کسی پریشانی سے نجات حاصل کرنا بھی آپ کی حاجت ہی کہلاتا ہے۔ ذکرِ الٰہی انوار کی کنجی ہے، بصیرت کا آغاز ہے اور جمال فطرت کا اقرار ہے۔ یہ حصول علم کا جال ہے۔ یہ تماشہ گاہ ہستی کی جلوہ آرائیوں اور حسن آفرینیوں کا اقرار ہے۔ ذاکر کے ذکر میں زاہد کے فکر میں خالق ِ آفاق کی جھلک نظر آتی ہے۔ ذکر الٰہی دراصل خالق حقیقی سے رابطے کی ایک شکل ہے۔

امام بغوی ؒ (شرح السنہ) میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:”اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کیا کہ اے میرے رب مجھ کو کوئی کلمہ تعلیم فرما، جس کے ذریعے مَیں ترا ذکر کروں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰلا الہ الا اللہ کہا کرو۔ انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب! یہی کلمہ تو تیرے سارے ہی بندے کہتے ہیں،مَیں تو وہ کلمہ چاہتا ہوں جو آپ خصوصیت سے مجھے ہی بتائیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:کہ اے موسی علیہ السلام! اگر ساتوں آسمان اور میرے سوا وہ سب کائنات جس سے زمین کی آبادی ہے اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھی جائیں اورلا الہ الا اللہ دوسرے پلڑے میں،لا الہ الا اللہ کا وزن ان سب سے زیادہ ہو گا“۔

حضور اکرم کی عادات مبارکہ:دوام ذکر الٰہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرتﷺ ہر لحظہ اور لمحہ اللہ کی یاد میں مصروف رہتے تھے۔ ابن ماجہ میں لکھا ہے کہ حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ رات کو آپ کے آستانہ اقدس پ ر پہرہ دیتے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کی تسبیح اور تہلیل کی آواز سنتے سنتے میں تھک جاتا تھا اور مجھے نیند آ جاتی تھی۔ بقول علامہ شبلی نعمانی ؒ اور علامہ سید سلیمان ندوی ؒ (سیرت النبی :جلد سوم) صفحہ158):”اُٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، کھاتے پیتے، سوتے، جاگتے،

وضو کرتے، نئے کپڑے پہنتے، سوار ہوتے، سفر میں جاتے، واپس آتے، گھر میں داخل ہوتے، مسجد میں قدم رکھتے،غرض ہر حالت میں دل و جان ذکر الٰہی میں مصروف رہتے“۔آپ سواری پر بیٹھے بیٹھے نفل ادا فرماتے۔

اپنا کمنٹ کریں