آرٹیکلز پاکستان تازہ ترین

عمران خان کیلئے پریشان کن خبر پی ٹی آئی میں علیم ، ترین ، چھینہ کے بعد ایک اور گروپ سامنے آ گیا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ، این این آئی )پاکستان تحریک انصاف کو ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانا مہنگا پڑ گیا ، مزاری گروپ بنانے پر اتفاق کر لیا گیا ۔نجی ٹی وی جیونیوز نے دعویٰ کیاہے کہ تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد دوست محمد مزاری اور ان کے کچھ دوست ناراض دکھائی دے رہے ہیں اورانہوں

نے مزاری گروپ بنانے کا فیصلہ کر لیاہے ، دوست محمد مزاری کے ہمراہ 12 سے 15 اراکین صوبائی اسمبلی موجود ہیں۔ ترین، علیم اور چھینہ گروپے کے بعد اب ایک اور گروپ مزاری گروپ کی شکل میں سامنے آ گیاہے ۔یاد رہے کہ تحریک انصاف نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست

محمدمزاری کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک انصاف کی جانب سے جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد کے متن میں کہاگیاہے کہ ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری پر ایوان کی اکثریت کا اعتماد نہیں رہا ہے اور صوبائی اسمبلی پنجاب کے معاملات آئین کے تابع نہیں چلائے جارہے نیز ملکی صورتحال کے زیرا ثر انہوں نے

صوبائی اسمبلی پنجاب میں جمہوری روایات کا قلع قمع کیا ہے ۔ لہذا یہ ایوان سردار دوست محمد مزاری ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتا ہے ۔دوسری جانب ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری نے کہا ہے کہ جنہوں نے میرے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے میں ان کا شکر گزار ہوں ، اب معاملات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جو بھی کیا جارہا ہے وہ غیر سیاسی اپروچ ہے اگر سیاسی اپروچ ہوتی تو معاملات اس نہج پر نہ پہنچتے ، اس کے ذریعے سسٹم کو ڈی ریل کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آئین و قانون اور اسمبلی کی بک کا جائزہ لیا ہے ، وزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے اجلاس کی صدارت میرا ہی اختیار ہے ۔ جب میر ے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ آگے بڑھے گا تو اس میں بھی رولز اور پروسیجر کی پیروی کی جائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اصولوں کے مطابق اسٹینڈ لیا ہے ،معاملات سیاسی طریقے سے بحال ہونا چاہیے ،سپریم کورٹ کوان حالات میں فوری مداخلت کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جس عملے نے میری ہدایات نہیں مانیں ان کے خلاف کارروائی کروں گا ۔توڑ پھوڑ کی

ویڈیو مجھ سے شیئر نہیں کی گئی ۔پرویز الٰہی سے رابطہ نہیں ہوا کوشش ہے ۔وزیراعظم کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ پنجاب میں آئینی بحران پیدا ہو گیا ،عدلیہ کو چاہیے اس کا نوٹس لے۔ بہت سارے ممبران پر پیسے لینے کا الزام لگایا گیا،وہ کہتے ہیں یا پیسے لینا ثابت کریں یا معذرت کریں لیکن یہ دونوں نہیں کر رہے۔

اپنا کمنٹ کریں