تازہ ترین دلچسپ

مسلمانوں کے معروف عالم دین نے ایسا جواب دیا کہ یہودی ربی اور عیسائی پادری بھا گ گئے؟

کیا آپ اپنی موجودہ عمر کے مقابلے میں زیادہ بڑی عمر کے نظر آتے ہیں؟اگر آپ آئینے میں ایسا منظر دیکھنا نہیں چاہتے تو اپنی روزمرہ کی غذائی عادات میں تبدیلی لانا ہی سب سے بہترین طریقہ کار ثابت ہوگا

۔جی ہاں واقعی چند مخصوص غذائیں ایسی ہوتی ہیں جن کا بہت زیادہ استعمال آپ کی شخصیت پر قبل از وقت بڑھاپے طاری کرسکتا ہے

اور آپ اصل عمر سے بیس سال زیادہ کے لگ سکتے ہیں۔تو ایسی چند غذاﺅں کے بارے میں جانیں جو آپ کو جلد بوڑھا کرسکتی ہیں۔مارجرین:ویسے تو برسوں قبل مارجرین کو مکھنکا بہتر متبادل سمجھ کر ناشتے کا حصہ بنالیا گیا، مگر یہ اتنا بھی اچھا نہیں ہوتا۔

طبی ماہرین کے مطابق مارجرین میں موجود ٹرانس فیٹ جسم میں پانی کی سطح کو کم کرتا ہے، آپ کی جلد جتنی نمی سے محروم ہوگی، اتنی تیزی سے جھریاں نمودار ہوں گی اور قبل از وقت بڑھاپا طاری ہوجائے گا۔انرجی ڈرنکس:مانیں یا نہ مانیں مگر انرجی ڈرنکس صحت کے لیے کچھ زیادہ اچھی نہیں، اکثر اس حوالے سے تحقیقی رپورٹس بھی سامنے آتی رہتی ہیں اور ماہرین کے مطابق ان مشروبات میں بہت زیادہ چینی اور تیزابیت ہوتی ہے، جو کہ

دانتوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر ہیں، جبکہ کیفین اور نمک کی بہت زیادہ مقدار جسم کو پانی سے محروم کرتی ہے، خاص طور پر اگر آپ پانی کم پیتے ہوں تو جلد بڑھاپے کے لیے آپ کو تیار ہوجانا چاہئے۔ پراسیس گوشت:یہ مغربی غذا جسمانی عمر کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے، یہ جسم میں ایسے مضر اجزاءکی تعداد بڑھاتی ہے

جو ڈی این اے اور خلیات پر اثرانداز ہوکر انہیں نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ کینسر اور دیگر سنگین امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ چینی کا زیادہ استعمال میٹھی اشیاءکس کو پسند نہیں ہوتی مگر یہ جسمانی وزن میں اضافے کے ساتھ ساتھ آپ کے چہرے کی عمر بھی بڑھا دیتی ہیں۔ شوگر یا چینی زیادہ استعمال کی وجہ سے ہمارے خلیات سے منسلک ہوجاتی ہے اور اس کے نتیجے میں چہرے سے سرخی غائب ہوجاتی ہے

ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎ ﻣﻨﮧ ﻟﯿﮑﺮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺌﮯ 0 0 ﮔﺌﮯ. ﺁﭖ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﺨﺘﺼﺮ ، ﺟﺎﻣﻊ، معقولیت سے بھرپور ﺍﺩﺏ ﻭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ کے ساتھ رواداری ﮐﯽ ﻋﻤﺪﮦ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻤﺖ ﻭ ﺩﺍﻧﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﻗﻊ تھا. ان کے جواب نے سارے ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺑﮑﮭﯿﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ یہ ﺑﺎﺏ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﯿﺎ. ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ :

“ﺍﮔﺮ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ اﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ.ﺍﮔﺮ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ بھی ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ.ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠّﻪﷻﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﮨﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ،ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﺋﯽ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮕﺎ

ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ 0 0ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺒﯽﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ اللّٰہﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ نہ ﮨﯽ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ.نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے عمر ؓ اگر مجھے لوگوں کے سست ہوجانے کا ڈر نہ ہو تو میں تمہیں یہ بات کہوں کہ اس خبر کو جا کر گلی بازاروں میں بتا دو اور 4 اشخاص کے جنت میں جانے کی گواہی دے دو کہ

انہیں جنت میں جانے سے کوئی شے نہیں روک سکتی۔حضرت عمر ؓنے عرض کی کہ حضور کون کون؟ حضور اکرم ؐنے فرمایا :۱-ایک وہ عورت جس نے اپنی تمام محبتیں اپنے شوہر پر نچھاور کردیں اور وہ اس حال میں مری کہ اس کا خاوند اس سے راضی تھا، جنت میں جانے سے اس کو کوئی شے نہیں روک سکتی۔2- دوسرا وہ شخص جس کے بچے زیادہ ہوں، ذرائع آمدنی تھوڑے ہوں

۔لیکن اس نے اپنے بچوں کے پیٹ میں کبھی حرام کا لقمہ نہیں جانے دیا ہو، قیامت کے دن اس کو بھی جنت میں جانےسے کوئی شے نہیں روک سکتی۔3- تیسرا وہ شخص جو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے اور اس کے والدین اس پر خوش ہوں اور اس پر راضی ہوجائیں۔4- چوتھا وہ شخص جس نے ایسی سچی توبہ کی

کہ گناہوں کی طرف پلٹنا اس کے لئے اتنا مشکل تھا جس طرح جانور کے تھن سے نکلا ہوا دودھ واپس نہیں جاسکتا۔ماں باپ کی خدمت کرنے والا، ماں باپ کو راضی کرنے والا واقعی خوش نصیب ہے اور وہ بدبخت ہیں جو اس شرف سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اپنے ماں باپ کا ادب و احترام کریں، ماں کے پیروں تلے جنت ہے تو

باپ اس جنت کی کنجی ہے۔ اپنی زندگی اور آخرت دونوں کو سنوارنا چاہتے ہیں تو ماں باپ کو ناراض نہ کریں اور انہیں ہمیشہ راضی رکھیں۔

اپنا کمنٹ کریں