آرٹیکلز پاکستان تازہ ترین

وزیراعظم کےدورہ روس سے قبل امریکا نےرابطہ کیا تھا ٗ امریکا نے معصومانہ سوال کیا تو ہم نے مؤدبانہ جواب دے دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے دورہ روس سے قبل امریکی انتظامیہ نے رابطہ کیا تھا،پاکستان سے امریکا نے معصومانہ سوال کیا تو ہم نے مؤدبانہ جواب دے دیا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتےہوئےوزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ روس جیسے ملک کا علاقائی معاملات میں اہم ترین کردار دیکھتے ہوئےیہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اس ملک کا دورہ کیا جائے گا اور اب ہمیں یقین ہوچلا ہے کہ ہمارا فیصلہ درست تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ایک اہم ترین اعلیٰ امریکی اہلکار کے ذریعے امریکی انتظامیہ نے پاکستان سے رابطہ کیا اور پیغام بھیجا تاہم پاکستان ہم جوں کا توں رہا اور کوئی دباؤ قبول نہیں کیا، پاکستان اپنی پالیسیوں کے مطابق غیرجانبدار ہےاورپاکستان نے بہت بڑی قیمت چکائی ہے تاہم اب اب وہ پالیسیاں اور نہیں چل سکتیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یوکرائن میں ہمارے سفارت خانے کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے، ماسکو جانے سے پہلے یوکرائن میں اپنے سفارت خانے کو

مناسب ہدایات دے دی تھیں اور یوکرائن میں مقیم پاکستانیوں بالخصوص طلباء کو نسبتاً محفوظ جگہ پر منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے اپنے سفارت خانے کو ٹرنوپل منتقل کردیا ہے اور کمیونٹی کے ساتھ نئے نمبرز بھی شیئرکردیے ہیں،خواہش ہے کہ جلد سے جلد پاکستانی طلباء کو محفوظ مقام پرمنتقل کردیا جائے۔وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان نے ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ ہمیں کسی کیمپ کا حصہ نہیں بننا ہے اوراس اصول کی وجہ سے آج پاکستان کے دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ اچھے مراسم ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ماسکو سے متعلق انھوں نے بتایا کہ روسی صدر کے ساتھ طویل ملاقات ہوئی اوراس ملاقات میں پاکستان اور روس کے مابین تعلقات میں جو بتدریج بہتری آئی اس پر گفتگو ہوئی، دونوں رہنماؤں کے مابین علاقائی صورتحال، افغانستان کی صورتحال پرسیرحاصل گفتگو ہوئی۔انھوں نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر کی صورتحال سے روسی صدر کو آگاہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ توانائی کے منصوبوں پر مفصل گفتگو ہوئی اوراسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان تبادلہ خیال ہوا۔وزیرخارجہ نے مزید بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی روس کے نائب وزیراعظم سے بھی ملاقات ہوئی جس میں اقتصادی و توانائی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا،ہم نے انہیں آگاہ کیا کہ ہم روس سے گیس کی خریداری میں دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ گوادر میں ایل این جی ٹرمینل کے قیام اور روس کے ساتھ تجارتی تعاون بڑھانے پر بھی ہماری گفتگو ہوئی۔

اپنا کمنٹ کریں