آرٹیکلز دلچسپ صحت

یوریک ایسڈ بڑھنے سے جسم پر ظاہر ہونے والی نشانیاں

ہائپرورسیمیا ایک تکلیف دہ خطرناک بیماری ہے جو خون میں یوریک اسیڈ کی مقدار بڑھنے سے پیدا ہوتی ہے اور خون میں بڑھی ہُوئی یوریک ایسڈ کی مقدار کئی دائمی بیماریوں کو پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے جس میں جوڑوں کے درد کی ایک خاص بیماری جسے گھٹیا کا درد کہا جاتا ہے سرفہرست ہے۔

خون میں یوریک اسیڈ کا بڑھنا کئی اور بیماریوں سے بھی جُڑا ہے اور ان بیماریوں میں دل کی بیماریاں، ذیابطیس، گُردے میں پتھری وغیرہ شامل ہیں اور ایک تحقیق کے نتائج کے مُطابق پاکستان میں 40 فیصد مرد اور 20 فیصد خواتین میں اس بیماری کی نشانیاں موجود ہیں اور ان افراد کی ایک بڑی تعداد اس خاموش قاتل بیماری سے لاعلم ہے۔

اس آرٹیکل میں خون میں یوریک اسیڈ بڑھنے سے پیدا ہونے والی نشانیوں کا ذکر کیا جائے گا تاکہ اس مرض کو ابتدا میں ہی پہچان کر کنٹرول کرنے میں آسانی ہو۔

خون میں یوریک ایسڈ اُس وقت بڑھتا ہے جب پیورین جسم میں بریک ڈاؤن ہوتی ہے، پیورین ایک خاص قسم کا کیمیکل ہے جو چند کھانوں میں بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے اور ان کھانوں میں سُرخ گوشت، گُردے، کپورے، مغز، سی فوڈ، اور لوبیا وغیرہ سرفہرست ہیں۔اگر خون میں یوریک اسیڈ بڑھ جائے تو عام طور پر اس کی کوئی نشانی ظاہر نہیں ہوتی کیونکہ یوریک ایسڈ بذات خود کوئی بیماری نہیں ہے لیکن اگر یہ خون میں زیادہ عرصہ تک بڑھا رہے تو یہ دیگر بیماریوں کو جن دیتا ہے اور ماہرین کے مطابق اس بیماری کے 10 میں سے 3 لوگ ایسے ہیں جن پر اس بیماری سے نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں۔

ہمارا جسم یوریک ایسڈ کو پیشاب کے ذریعے خارج کرتا ہے اور ہائپرورسیمیا اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب یا تو گُردے یوریک ایسڈ کو پُوری طرح خارج نہ کرپائیں یا باڈی بہت زیادہ یوریک ایسڈ بنانا شروع کر دے۔

جوڑوں کا یہ درد جسے اُردو میں “گھٹیا” کا درد کہتے ہیں یوریک ایسڈ کے 20 فیصد مریضوں میں ظاہر ہوتا ہے اور یہ درد جسم کے کسی بھی جوڑ سے شروع ہو سکتا ہے لیکن زیادہ تر یہ پاؤں کے جوڑوں، ٹخنوں، گھٹنوں اور بازو کی کوہنیوں وغیرہ کو متاثر کرتا ہے اور مریض اس بیماری میں جوڑوں میں شدید درد، اکٹرا پن، متاثرہ حصے کو حرکت دینے میں دشواری، متاثرہ حصے پر سوزش وغیرہ محسوس کرتا ہے۔

یوریک ایسڈ کے کرسٹلز گُردے میں پتھری پیدا کرنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں یہ پتھری عام طور پر سائز میں چھوٹی ہوتی ہے اور پیشاب کے راستے خارج ہوجاتی ہے مگر کبھی کبھی اس پتھری کا سائز بڑا ہوجاتا ہے اور یہ پیشاب کی نالیوں میں پھنس کر شدید تکلیف کا سبب بنتی ہے۔

اگر جسم میں یوریک ایسڈ زیادہ عرصے تک بڑھا رہے تو یہ جوڑوں کے درد کی ایک اور بیماری جسے میڈیکل سائنس میں ٹاپاساس کہتے ہیں کو جنم دیتا ہے، اس بیماری میں یوریک ایسڈ کے کرسٹل جوڑوں کے اوپر جمنا شروع ہوجاتے ہیں اور شدید درد کا باعث بنتے ہیں اور متاثرہ حصے کی بیرونی ساخت کو بدل دیتے ہیں اور دیکھنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ حصہ ٹاپاساس سے متاثر ہو چُکا ہے۔

گُردے میں پتھری بننے سے درجہ ذیل نشانیاں ظاہر ہوتی ہے، کمر کے نچلے حصے میں درد، پیٹ میں درد، پیٹ کی دائیں یا بائیں سائیڈ میں درد، متلی، کثرت پیشاب، پیشاب میں جلن اور دُشواری، پیشاب میں خون اور عجیب بدبو وغیرہ اور اگر یہ پتھری گُردے میں انفیکشن پیدا کر دے تو اس سے بخار اور ٹھنڈ لگنا بھی شروع ہو سکتی ہے۔

اس بیماری سے کوئی بھی متاثر ہو سکتا ہے مگر یہ بیماری عُمر کے بڑھنے کے ساتھ عورتوں کی نسبت مردوں کو زیادہ متاثر کرتی ہے۔

ڈاکٹر حضرات اس بیماری کی تشخیص کے لیے خون اور پیشاب کے ٹیسٹ کرواتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ گُردے ٹھیک کام کر رہے ہیں اور خون میں یوریک ایسڈ لیول کتنا ہے۔

اپنا کمنٹ کریں